سرچ انجن: خفیہ ایجنسی کے بوٹس اور کرالرز | Bots vs Crawlers
رائٹر: Exponect.com ٹیم
سرچ انجن کے بوٹس اور
کرالرز:مطلب، تعریف، فرق، اقسام، عمل
حصہ اول:
1
تعارف: بوٹس اور کرالرز(ڈیجیٹل جاسوسوں)
انٹرنیٹ پر لوگوں کو ویب سائٹس، بلاگز اور سوشل میڈیا کا ایک رنگین مجموعہ نظر آتا ہے، لیکن اس کی گہرائی میں ایک نہایت پیچیدہ اور وسیع نظام کام کر رہا ہے۔ جس طرح کسی ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک "خفیہ ایجنسی" کا جال بچھا ہوتا ہے، بالکل اسی طرح انٹرنیٹ پر ہر چیز کو کنٹرول کرنے، معلومات جمع کرنے اور انہیں منظم کرنے کے لیے کچھ "ڈیجیٹل کارندے" درکار ہوتے ہیں۔ ان خودکار مشینوں یا پروگراموں کو ہم تکنیکی زبان میں بوٹس اور کرالرز کہتے ہیں۔ یہ وہ خاموش جاسوس ہیں جو ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور آپ کے ایک ایک کلک پر نظر رکھتے ہیں۔
2
ڈیجیٹل تصورات کی بنیادی تعریف
اکثر لوگ بوٹ اور کرالر کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، جو کہ
ایک غلط فہمی ہے۔ ان کے درمیان باریک مگر اہم فرق کو سمجھنے کے لیے درج ذیل
اصطلاحات پر غور کریں:
3
بوٹ کیا ہے؟
بوٹ دراصل "روبوٹ" کا مخفف ہے۔ یہ ایک ایسا
خودکار سافٹ ویئر پروگرام ہوتا ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر متعین کردہ کام انجام
دیتا ہے۔ اگر ہم اسے ایک "ڈیجیٹل فوجی" کہیں تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ یہ
پروگرام دن رات تھکے بغیر وہی کام دہراتا رہتا ہے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہو۔
بوٹ کے بنیادی کام:
صارفین سے خودکار چیٹ کرنا۔
ویب سائٹس کی 24 گھنٹے نگرانی کرنا۔
انٹرنیٹ سے ڈیٹا اکٹھا کرنا اور سیکیورٹی چیک کرنا۔
4
اچھے اور برے بوٹس (نیک اور بد جاسوس)
بوٹس کا اچھا یا برا ہونا ان کے نام سے نہیں بلکہ ان کے
مقصد اور استعمال سے طے ہوتا ہے۔
اچھے بوٹس:
یہ وہ پروگرام ہیں
جو انٹرنیٹ کی بہتری، ویب سائٹس کی مدد اور صارفین کی رہنمائی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
ان کا مقصد قوانین کی پابندی کرنا اور سسٹم کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔
برے یا خراب بوٹس:
یہ وہ خودکار
پروگرام ہیں جو نقصان پہنچانے، ڈیٹا چوری کرنے یا ویب سائٹس پر حملہ کرنے کے لیے
بنائے جاتے ہیں۔ یہ قوانین کو توڑتے ہیں اور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
5. کرالر کیا ہے؟ (ایک خاص جاسوس)
کرالر دراصل بوٹ
کی ہی ایک قسم ہے، لیکن اس کا مشن بہت مخصوص ہوتا ہے۔ اس کا کام انٹرنیٹ پر
گھومنا، ویب صفحات کو تلاش کرنا اور ان کی معلومات اکٹھی کرنا ہے۔
تمثیلی مثالیں (فوج اور گاڑی):
فوجی اور جاسوس:
فوج میں باورچی، ڈرائیور اور ڈاکٹر سب "فوجی" (بوٹ) کہلاتے ہیں، لیکن
صرف وہ فوجی جو دشمن کے علاقے میں جا کر نقشے بناتا ہے "جاسوس" (کرالر)
کہلاتا ہے۔
نتیجہ:
ہر جاسوس فوجی
ہوتا ہے (ہر کرالر بوٹ ہے)، مگر ہر فوجی جاسوس نہیں ہوتا (ہر بوٹ کرالر نہیں)۔
گاڑی اور ٹیکسی کی تمثیل:
ہر ٹیکسی ایک گاڑی (بوٹ) ہے، لیکن ہر گاڑی ٹیکسی
(کرالر) نہیں ہوتی کیونکہ ٹیکسی کا مقصد مخصوص (مسافر اٹھانا) ہے۔
6
کرالرز کی اقسام اور ان کا کام
جس طرح ایک انٹیلی جنس ایجنسی میں الگ الگ یونٹس ہوتے ہیں،
اسی طرح کرالرز کی بھی واضح اقسام ہوتی ہیں:
7. حصہ اول کا حتمی نتیجہ
اس بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرچ انجن کی یہ "خفیہ
ایجنسی" بوٹس اور کرالرز کے بغیر نامکمل ہے۔ ایک بلاگر کے لیے کرالر اس کا سب
سے بڑا اتحادی ہے جو اس کی تحریر کو دنیا تک پہنچاتا ہے، جبکہ برے بوٹس وہ دشمن ہیں
جن سے اسے اپنی ویب سائٹ کو بچانا ہوتا ہے۔
حصہ دوم: ڈیجیٹل جاسوسی کا عمل — بلاگرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کا محاصرہ
سرچ انجن کرالرز کا گہرا نظام
پچھلے حصے میں
ہم نے بوٹس اور کرالرز کی بنیادی پہچان کی۔ اب ہم اس "انٹیلی جنس نیٹ
ورک" کے عملی میدان میں اترتے ہیں جہاں یہ جاسوس روزانہ کروڑوں لوگوں کا ڈیٹا
اکٹھا کرتے ہیں۔
1
بلاگرز کے لیے "جاسوسی" کا عمل
ایک بلاگر جب
اپنا آرٹیکل انٹرنیٹ پر شائع کرتا ہے، تو پسِ پردہ گوگل کی خفیہ ایجنسی متحرک ہو
جاتی ہے۔
تلاشی کا عمل: (کرالنگ)
گوگل کے کرالرز(گوگل کے خاص بوٹس) فورا بلاگ پر
پہنچتے ہیں۔ وہ صرف ٹیکسٹ نہیں پڑھتے، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ نے کون سے کی
ورڈز استعمال کیے اور کن دوسری ویب سائٹس کے لنکس دیے ہیں۔
فائلنگ اور ریکارڈ: (انڈکسنگ)
جیسے کوئی خفیہ
ایجنسی ہر مشتبہ شخص کی فائل بناتی ہے، ویسے ہی یہ کرالرز آپ کے بلاگ کی ایک فائل
بنا کر گوگل کے "ہیڈ کوارٹر" (انڈیکس) میں جمع کر دیتے ہیں۔
درجہ بندی: (رینکنگ)
یہاں ایجنسی کا
"چیف افسر" (الگورتھم) یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آپ کا مواد کتنا سچا اور معیاری
ہے، اور اسے سرچ رزلٹس میں کس نمبر پر دکھانا ہے۔
2
یوٹیوب: ویڈیو جاسوسوں کا گڑھ
یوٹیوب محض ایک
تفریحی پلیٹ فارم نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی "بصری خفیہ ایجنسی" ہے۔ یہاں
کام کرنے والے بوٹس بہت زیادہ جدید ہیں۔
آڈیو اور ویڈیو اسکیننگ: جب آپ ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں، تو
یوٹیوب کے بوٹس اس کے ایک ایک فریم کو اسکین کرتے ہیں۔ وہ یہ سن سکتے ہیں کہ آپ نے
کیا کہا (خودکار
ٹرانسکرپشن) اور یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ویڈیو میں کون سی اشیاء یا
چہرے موجود ہیں۔
صارف کی مانیٹرنگ:
یوٹیوب کے جاسوس یہ نوٹ کرتے ہیں کہ ایک صارف نے ویڈیو
کہاں پر رکی، کس حصے کو بار بار دیکھا اور ویڈیو ختم کرنے کے بعد اس کا اگلا قدم کیا
تھا۔ یہ تمام ڈیٹا صارف کا ایک "نفسیاتی پروفائل" تیار کرنے میں مدد دیتا
ہے۔
3
سوشل میڈیا: انسانی نفسیات اور حرکات کے جاسوس
سوشل میڈیا محض رابطہ کاری کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک
"ماس سرویلنس سسٹم (بڑے پیمانے پر نگرانی کا نظام) بن چکا ہے۔ فیس بک کے
علاوہ دیگر پلیٹ فارمز بھی مخصوص طریقے سے آپ کی جاسوسی کرتے ہیں:
انسٹاگرام (بصری جاسوسی):
انسٹاگرام کے بوٹس صرف یہ نہیں دیکھتے کہ آپ نے کس کی تصویر
لائیک کی، بلکہ ان کے پاس "امیج ریکگنیشن" کی طاقت ہے۔ اگر آپ کسی خاص
برانڈ کے کپڑے پہنے تصویر لگاتے ہیں یا کسی خاص مقام پر تصویر کھینچتے
ہیں، تو انسٹاگرام کے بوٹس اس تصویر کے اندر موجود اشیاء کو پہچان کر آپ کا
"لائف اسٹائل پروفائل" تیار کر لیتے ہیں۔
ایکس / ٹویٹر (رجحانات اور نظریات کی جاسوسی):
ایکس (ٹویٹر) کے
بوٹس دنیا کے سب سے تیز ترین "سینٹیمنٹ انالیسس" (جذبات کا تجزیہ) کرنے
والے کارندے ہیں۔ یہ بوٹس آپ کے ٹویٹس سے یہ بھانپ لیتے ہیں کہ ملک میں کس سیاسی
جماعت کا پلڑا بھاری ہے یا عوام کس بات پر غصے میں ہیں۔ یہ رجحانات (ٹرینڈز) دراصل
انہی بوٹس کی مرہونِ منت ہیں جو لمحہ بہ لمحہ لاکھوں پیغامات کو اسکین کر رہے ہوتے
ہیں۔
لنکڈ ان کے جاسوسی
LinkedIn Spies
یہاں کے بوٹس آپ
کی پیشہ ورانہ زندگی، تنخواہ، کمپنی کی تبدیلی اور آپ کے کیریئر کے عزائم پر نظر
رکھتے ہیں۔ یہ ایجنسی آپ کی "معاشی حیثیت" کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے۔
4
ٹریکنگ پکسلز اور کراس پلیٹ فارم جاسوسی
یہ وہ نکتہ ہے جہاں یہ تمام ایجنسیاں آپس میں جڑ جاتی ہیں۔
I
انسٹاگرام + فیس بک (میٹا نیٹ ورک)
چونکہ یہ
ایک ہی کمپنی ہے، اس لیے ان کے بوٹس آپ کا ڈیٹا آپس میں بانٹتے ہیں۔ اگر آپ نے
انسٹاگرام پر کسی میک اپ پروڈکٹ کی تصویر پر 2 سیکنڈ زیادہ وقت گزارا، تو فیس بک
کا بوٹ فوراً الرٹ ہو جائے گا اور آپ کو وہاں اشتہار دکھائے گا۔
II
ایکس (X) اور بیرونی ویب سائٹس:
ٹویٹر کے
"شیئر بٹن" جو ہر ویب سائٹ پر لگے ہوتے ہیں، دراصل ان کے جاسوسوں کے اسٹیشن
ہیں۔ چاہے آپ ٹویٹ نہ بھی کریں، صرف اس ویب سائٹ پر جانا جہاں ٹویٹر کا بٹن موجود
ہے، ان کے بوٹس کو آپ کی موجودگی کی اطلاع دے دیتا ہے۔
4. موازنہ: سرچ انجن بمقابلہ سوشل میڈیا جاسوسی
5
ہم خود ان جاسوسوں کی مدد کیسے کرتے ہیں؟
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم خود ان ڈیجیٹل جاسوسوں کو
اپنا ڈیٹا خوشی خوشی فراہم کرتے ہیں۔
6
مفت سروسز کا دھوکہ:
ہم گوگل، یوٹیوب
اور فیس بک کو اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ یہ "مفت" ہیں۔ لیکن حقیقت میں
آپ کی معلومات (ڈیٹا) ہی وہ قیمت ہے جو آپ ادا کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل فٹ پرنٹ:
ہم جہاں بھی جاتے ہیں، جو بھی سرچ کرتے ہیں، پیچھے ایک
نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ نشانات ان جاسوسوں کے لیے کسی نقشے سے کم نہیں ہوتے۔
خلاصہ حصہ دوم: ڈیجیٹل گھیراؤ اور معلومات کا بہاؤ
اس بحث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جدید دور کی یہ
"ڈیجیٹل جاسوسی" اب صرف ویب سائٹس کو اسکین کرنے تک محدود نہیں رہی۔ یہ
جال اب ہماری بصری دلچسپیوں (یوٹیوب)، ہماری تصاویر کے پسِ منظر (انسٹاگرام) اور
ہمارے نظریاتی مباحثوں (ایکس/ٹویٹر) تک پھیل چکا ہے۔
حقیقت میں، یہ تمام پلیٹ فارمز ایک ایسی عالمی لیبارٹری کی
طرح کام کر رہے ہیں جہاں ہر صارف کے رویے کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
ان تمام سرگرمیوں کا واحد اور حتمی مقصد ایک ایسی "ڈیجیٹل پروفائل" تیار
کرنا ہے جو آپ کی نجی پسند، ناپسند اور نفسیات کو ظاہر کر سکے۔ یہی وہ قیمتی اثاثہ
ہے جسے بعد میں تجارتی مارکیٹنگ یا سیاسی اثر و رسوخ کے لیے بطور "خام
مال" استعمال کیا جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، آپ کی ہر آن لائن حرکت اس عظیم
الشان تجارتی مشینری کا ایندھن بن رہی ہے۔
حصہ سوم:ڈیٹا مائننگ اور کمرشل انٹیلی جنس (ہیڈ کوارٹر کا اندرونی نظام)
پچھلے حصوں میں
ہم نے ان جاسوسوں (بوٹس اور کرالرز) کو دیکھا جو گلیوں اور کوچوں (ویب سائٹس اور
سوشل میڈیا) سے معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پہاڑ جیسی
معلومات جاتی کہاں ہیں اور ان کا کیا کیا جاتا ہے؟
1
ڈیٹا سینٹرز: ڈیجیٹل یاداشت کے قلعے
ان جاسوسوں کا
اکٹھا کیا گیا تمام ڈیٹا بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ وہ عظیم
الشان عمارتیں ہیں جو اکثر عام آبادی سے دور، ٹھنڈے علاقوں یا زمین دوز تہہ خانوں
میں بنائی جاتی ہیں۔
ذخیرہ اندوزی:
یہاں لاکھوں
سرورز دن رات چلتے ہیں جو دنیا کے ہر انسان کی ڈیجیٹل زندگی کو محفوظ کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی:
ان مراکز کی
حفاظت کسی ایٹمی تنصیب سے کم نہیں ہوتی۔ یہاں آپ کی ہر سرچ، ہر لائیک اور ہر ویڈیو
دیکھنے کا ریکارڈ ایک "ڈیجیٹل فائل" کی صورت میں محفوظ ہے۔
2
ڈیٹا مائننگ: خام مال سے سونا نکالنے کا عمل
صرف ڈیٹا اکٹھا کرنا کافی نہیں ہوتا۔ اصل کام ڈیٹا
مائننگ ہے۔ اس عمل میں مصنوعی ذہانت کے بوٹس اس کچرے
جیسے ڈیٹا کو اسکین کرتے ہیں تاکہ قیمتی معلومات نکالی جا سکیں۔
مثال: کمرشل انٹیلی
جنس
اگر لاکھوں لوگ
ایک ساتھ "سستے جوتے" سرچ کر رہے ہیں، تو مائننگ بوٹس فوراً اس
رجحان کو پہچان لیتے ہیں اور یہ معلومات جوتا بنانے والی کمپنیوں کو مہنگے داموں بیچ
دی جاتی ہیں۔ اسے کمرشل انٹیلی جنس کہتے ہیں۔
شیڈو پروفائلنگ:
وہ معلومات جو آپ نے کبھی نہیں دیں
یہ اس مضمون کا
سب سے حیران کن اور کسی حد تک خوفناک حصہ ہے۔ شیڈو پروفائلنگ کا مطلب ہے کہ یہ ایجنسیاں
آپ کے بارے میں وہ کچھ بھی جانتی ہیں جو آپ نے انہیں کبھی بتایا ہی نہیں۔
شیڈو پروفائلنگ کیسے کام کرتا ہے؟
اگر آپ کا فیس بک
اکاؤنٹ نہیں ہے، لیکن آپ کے پانچ دوستوں نے اپنی کانٹیکٹ لسٹ فیس بک کو دے رکھی ہے
اور ان پانچوں کے فون میں آپ کا نمبر محفوظ ہے، تو فیس بک کے پاس آپ کا ایک
"شیڈو پروفائل" (سایہ دار کھاتہ) تیار ہو جاتا ہے۔
اندازہ:
یہ ایجنسی آپ کے
دوستوں کے رجحانات دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیتی ہے کہ آپ کی سیاسی سوچ کیا ہوگی اور
آپ کی معاشی حیثیت کیا ہے۔ آپ سسٹم کا حصہ نہ ہو کر بھی ان کی فائل میں موجود ہوتے
ہیں۔
4
ڈیجیٹل فٹ پرنٹ:
انٹرنیٹ پر آپ کا ہر قدم ایک مٹ نہ سکنے والا نشان چھوڑتا
ہے، جسے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کہا جاتا ہے۔
حصہ سوم کا خلاصہ:
آج ہمیں معلوم
ہوا کہ یہ خفیہ ایجنسی صرف جاسوسی نہیں کرتی بلکہ ہمارے ڈیٹا کی تجارت بھی کرتی
ہے۔ ہماری زندگیوں کا ریکارڈ ان بڑے قلعوں (ڈیٹا سینٹرز) میں قید ہے جہاں سے شیڈو
پروفائلنگ کے ذریعے ہمیں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
حصہ چہارم: دفاعی اقدامات، پرائیویسی اور مستقبل (جاسوسی کے خلاف ڈھال)
پچھلے حصوں میں
ہم نے ان ڈیجیٹل جاسوسوں کے جال، ان کے کام کرنے کے طریقے اور ڈیٹا سینٹرز کی حقیقت
کو سمجھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس نظام کے سامنے بالکل بے بس ہیں؟
جواب ہے: نہیں۔ جس طرح ایجنسیاں حملہ کرتی ہیں، اسی طرح دفاع کے لیے بھی ٹیکنالوجی
موجود ہے۔
1
دفاعی دیواریں:
فائر والز اور کیپچا سائٹس کے مالکان اور عام صارفین برے بوٹس کو روکنے کے لیے
مختلف رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
فائر وال:
یہ ویب سائٹ کے باہر کھڑا ایک ڈیجیٹل پہرے دار ہے۔ یہ ہر
آنے والے بوٹ کا "شناختی کارڈ" چیک کرتا ہے۔ اگر کوئی بوٹ مشکوک لگے یا
کسی دشمن ملک (سرور) سے آرہا ہو، تو فائر وال اسے داخلے کی اجازت نہیں دیتی۔
کیپچا:
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ویب سائٹ پر لاگ ان کرتے وقت وہ
آپ سے کچھ تصاویر منتخب کرنے کا کہتی ہے (مثلاً ٹریفک لائٹس یا سیڑھیاں)۔ اس کا
مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ "انسان" ہیں نہ کہ کوئی "جاسوس
بوٹ"۔ بوٹس کے لیے ان تصاویر کو پہچاننا اور منطقی فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
2
ذاتی پرائیویسی کا تحفظ: ہم خود کو کیسے بچائیں؟
ایک عام شہری کے طور پر آپ ان جاسوسوں کی رسائی کو محدود
کر سکتے ہیں:
براؤزر کی ترتیبات :
انکوگنیٹو موڈ کا استعمال کریں تاکہ آپ کی سرچ ہسٹری اور کوکیز
محفوظ نہ ہوں۔
ایڈ بلاکرز اور ٹریکر بلاکرز:
ایسے سافٹ ویئرز استعمال کریں جو ٹریکنگ پکسلز کو رپورٹ بھیجنے سے روک دیتے ہیں۔
اجازت نامے:
موبائل ایپس کو ہر چیز (کیمرہ، لوکیشن، مائیکروفون) کی
اجازت نہ دیں۔ صرف وہی اجازت دیں جو ایپ چلانے کے لیے ضروری ہو۔
3
پرائیویسی اور ٹیکنالوجی کا توازن
ہم ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ یہ
ہماری ضرورت بن چکی ہے۔ اصل کمال توازن پیدا کرنا ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ہمارا کون سا ڈیٹا عوامی
(پبلک کے لئے) ہے اور کون سا نجی یعنی جسے خفیہ رکھنے کی ضرورت ہے لوگوں سے شئیر
نہیں کرسکتے۔
4
مستقبل کا منظرنامہ
آنے والے
وقت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ان بوٹس کو اور بھی زیادہ طاقتور بنا دے گی۔ یہ
بوٹس صرف معلومات اکٹھی نہیں کریں گے بلکہ ہمارے فیصلوں پر اثر ڈالنے کی بھی کوشش
کریں گے۔ تاہم، دنیا بھر میں ڈیٹا کی حفاظت کے قوانین سخت ہو رہے ہیں، جو کمپنیوں
کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ صارف کی اجازت کے بغیر اس کا ڈیٹا دوسروں کے ساتھ شیئر نہ
کریں۔
حصہ چہارم کا خلاصہ
ہم نے اس طویل سفر میں دیکھا کہ:
سرچ انجن محض ایک
سروس نہیں بلکہ ایک عالمی خفیہ ایجنسی ہے۔
بوٹس اور کرالرز
اس ایجنسی کے وہ جاسوس ہیں جو ہر لمحہ ہماری ڈیجیٹل زندگی کی فائلیں تیار کر رہے ہیں۔
بلاگرز، یوٹیوبرز
اور سوشل میڈیا صارفین اس نیٹ ورک کے اہم مہرے اور اہداف ہیں۔
ڈیٹا مائننگ کے
ذریعے ہماری پسند و ناپسند کو بیچا جاتا ہے۔
حصہ چہارم حتمی نتیجہ
انٹرنیٹ پر سو فیصد پرائیویسی ایک وہم ہے، لیکن
"ڈیجیٹل شعور" کے ذریعے ہم اس جاسوسی جال کے اثرات کو کم سے کم کر سکتے
ہیں۔ یاد رکھیں، اس ڈیجیٹل دور میں معلومات ہی طاقت ہے، اور آپ کی معلومات کی
حفاظت آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔
میرا مقصد: میں نے یہ مضمون کیوں لکھا؟
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس پیچیدہ
جال اور "ڈیجیٹل جاسوسی" جیسے سنگین موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت کیوں
پیش آئی؟ اس کے پیچھے تین بنیادی محرکات ہیں:
1
خوف کو شعور میں بدلنا:
انٹرنیٹ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یا تو یہ محض تفریح
کا ذریعہ ہے یا پھر کوئی ایسی پراسرار طاقت جو ہمیں تباہ کر دے گی۔ میں نے یہ
مضمون اس لیے لکھا تاکہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ ایک خالص
تکنیکی اور کاروباری نظام ہے۔ جب ہم کسی چیز کی حقیقت (بوٹس، کرالرز، ڈیٹا مائننگ)
کو سمجھ لیتے ہیں، تو ہمارا خوف "شعور" میں بدل جاتا ہے۔
2
بلاگرز اور مواد بنانے والوں کی رہنمائی:
بہت سے بلاگرز اور یوٹیوبرز محنت تو بہت کرتے ہیں لیکن وہ
یہ نہیں جانتے کہ ان کا واسطہ کن "ڈیجیٹل کارندوں" سے ہے۔ میں چاہتا تھا
کہ وہ ان کرالرز کو دشمن سمجھ کر ڈرنے کے بجائے ان کا کام کرنے کا طریقہ سمجھیں،
تاکہ وہ اپنے مواد کو ان جاسوسوں کی ضرورت کے مطابق ڈھال سکیں اور کامیابی حاصل کر
سکیں۔
3
ڈیجیٹل آزادی کا
تحفظ:
آج کے دور میں ڈیجیٹل پرائیویسی صرف ایک لفظ نہیں
بلکہ ایک انسانی حق ہے۔ میں نے یہ حقائق اس لیے آپ کے سامنے رکھے تاکہ ایک عام انٹنیٹ
صارف کو معلوم ہو کہ اس کی کون سی معلومات کہاں جا رہی ہے۔ میرا مقصد کسی کو ڈرانا
نہیں بلکہ اسے "باخبر انسان" بنانا ہے، جو اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کر سکے
کہ اسے کتنا ڈیٹا شیئر کرنا ہے اور کتنا چھپانا ہے۔
حرفِ آخر:
یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں،
بلکہ ایک ایسے انسانوں کی فوج تیار کرنا ہے جو ٹیکنالوجی کو دوسرے انسانوں کے لئے استعمال
تو کرے، لیکن اس کے ہاتھوں استعمال نہ ہو۔ اس کے لئے ٹیکنا لوجی کی تعلیم بے حد
ضروری ہے تاکہ لوگوں میں شعور آئے اور وہ ڈیجیٹل سکلز سیکھیں اور ترقی کریں۔
قاری کے لیے فائدہ: یہ تحریر آپ کی زندگی میں کیا بدلاؤ لائے گی؟
اس پوسٹ سے
پڑھنے والے کو کیا فائدہ ہوگا؟
اس تفصیلی مضمون
کو پڑھنے کے بعد آپ کی زندگی میں جو مثبت تبدیلیاں آئیں گی اور جو فوائد آپ حاصل
کریں گے، وہ درج ذیل ہیں:
ڈیجیٹل خوف کا خاتمہ اور خود اعتمادی:
اب تک آپ انٹرنیٹ کو ایک پراسرار، خفیہ اور خطرناک شے
سمجھتے ہوں گے جہاں آپ کی ہر باتیں اور تحریریں یا انفارمیشن ریکارڈ ہو رہی ہے۔ اس
مضمون کو پڑھنے کے بعد آپ کا یہ خوف ختم ہو جائے گا کیونکہ اب آپجاسوسی کے نظام
کو سمجھ چکے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کی حقیقت جان لیتے ہیں، تو آپ اسے اعتماد کے ساتھ
اور بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔
آن لائن سیکیورٹی اور پرائیویسی کا دفاع:
اس تحریر سے آپ کو وہ عملی طریقے معلوم ہو گئے ہیں جن کے
ذریعے آپ برے بوٹس اور غیر ضروری ٹریکنگ سے بچ سکتے ہیں۔ اب آپ اپنی لوکیشن، کیمرہ
اور مائیکروفون کی رسائی سوچ سمجھ کر دیں گے، جس کا براہِ راست فائدہ یہ ہوگا کہ آپ
کا ڈیٹا محفوظ رہے گا اور ہیکنگ کے خطرات کم ہو جائیں گے۔
3
بلاگرز اور یوٹیوبرز کے لیے کامیابی کی کنجی:
اگر آپ مواد بنانے والے ہیں، تو اب آپ
کو معلوم ہے کہ کرالر (جیسے گوگل) آپ کا دشمن نہیں بلکہ آپ کے لئے ڈلیوری بوائے
کی حیشیت رکھتا ہے۔ آپ اپنی تحریروں اور گفتگو کوپوری دنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔ آپ اپنیے پیغام کو ان ڈیجیٹل جاسوسوں کے عمل کے
مطابق ڈھال کر یعنی ایس ای او (سرچ انجن
آپٹیمائزیشن) کرکے اپنی ویب سائٹ کی ٹریفک اور یوٹیوب کے ویوز میں کئی گنا اضافہ
کر سکیں گے۔
مالیاتی شعو:
امید ہے کہ اس پوسٹ سے آپ کو یہ سمجھ آ چکی ہوگی کہ انٹرنیٹ پر یوٹیوب، ویب
سائٹ، بلگ، فیس بک یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپ کو مخصوص قسم کے اشتہارات کیوں
دکھائے جاتے ہیں۔ اس سے آپ "امپلس بائینگ" (یعنی اشتہار دیکھ کر فوری خریداری)
کے متعلق شعور بیدار ہوتا ہے۔ کہ کونسی پراڈکٹ خریدنی ہے یا نہیں۔ کونسی چیز آئن
لائن فائدہ مند ہے کونسی نہیں۔ انٹرنیٹ پر آپ کو پراڈکٹس کے متعلق کافی حد تک
معلومات بھی ملتی ہیں۔
5
بچوں اور خاندان کی بہتر تربیت:
فیملی کے ایک
ذمہ دار سربراہ کے طور پر، اب آپ اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات اور آداب بہتر طریقے
سے سکھا سکیں گے۔ آن لائن اخلاقیات کیا ہیں؟
آپ انہیں بتا سکیں
گے کہ انٹرنیٹ پر ان کا ہر قدم ایک "ڈیجیٹل فٹ پرنٹ" چھوڑ رہا ہے جو ان
کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ:
یہ تحریر آپ کو ایک بے بس صارف سے ایک "باخبر
انسان" میں تبدیل کر دے گی جو جو ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی کا غلام نہیں بلکہ
اس کا مالک بن کر اسے اپنی بہتری کے لیے استعمال کرے گا۔
حتمی نتیجہ: ڈیجیٹل دور کی نئی حقیقت اور ہماری ذمہ داری
اس تفصیلی بحث
کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں
"دیواروں کے بھی کان ہیں" کا محاورہ حقیقت بن چکا ہے، بس فرق یہ ہے کہ
اب یہ کان انسانی نہیں بلکہ ڈیجیٹل ہیں۔ سرچ انجن کی یہ خفیہ ایجنسی کے جاسوس بوٹس
اور کرالرز کسی ملک کی سرحدوں کی محتاج نہیں، بلکہ یہ انٹرینٹ کے ذریعے ہمارے بیڈرومز
سے لے کر ہماری جیبوں میں رکھے اسمارٹ فونز، موبائل اورکمروں کے کمپیوٹز تک رسائی
رکھتی ہے۔
جاسوسی کا نیا عمرانی (سماجی) معاہدہ
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیٹ پر "مفت" نام کی
کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ اگر آپ کسی سروس کے پیسے ادا نہیں کر رہے، تو دراصل آپ
خود وہ پروڈکٹ ہیں جسکی پسند ناپسند کو دیکھا جارہا ہے۔ کاروباری
کمپنیاں یہ دیکھتی ہیں کہ انسانوں کو کیا چاہییے تاکہ وہ انہیں تیار کرکے دے سکیں
یا پھر بیچ سکیں۔ آپ مفت معلومات استعمال کرتے ہیں تو کمپنیاں آپ کے مزاج کا تجزیہ
کرتی ہیں۔ بحر حال اگر انسان ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال سیکھ لے تو پھر فائدہ
انسان کا ہی ہوگا۔
اگر لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرنا چھوڑ دیں تو جو آپ کے ذریعے
کھربوں ڈالر کی انڈسٹریاں چل رہی ہے پھر وہ مال تیار نہیں کرسکتیں جو انسانوں کے
مسائل حل کرسکیں۔
شعور: سب سے بڑی ڈھال
ٹیکنالوجی سے
فرار سو فیصد ممکن نہیں اور نہ ہی یہ دانشمندی ہے۔ اس کا حل "ڈیجیٹل دور"
سے بھاگنے میں نہیں بلکہ اس میں رہ کر باخبر رہنے میں ہے اور دنیا کے ساز وسامان
سے فائدہ اٹھانا میں ہے۔ جس طرح ہم سڑک پر چلتے ہوئے ٹریفک کے قوانین پر عمل کرتے
ہیں، ویسے ہی ڈیجیٹل دور میں رہنے کے لیے بھی کچھ اصول وضوابط اپنائے کی اشد ضرورت
ہے تاکہ ہم ٹیکنالوجی کا نفع بخش استعمال کرسکیں۔ اور اپنے اچھے اور بامقصد پیغام
کو دنیا بھر میں پھیلا سکیں۔
ڈیجیٹل احتیاط:
ہر ایپلیکیشن کو
لوکیشن اور مائیکروفون کی رسائی دینا اپنے گھر کی چابی کسی اجنبی کو دینے کے
مترادف ہے۔
انفارمیشن ہائجین:
اپنی نجی
معلومات (جیسے گھر کا پتہ، فون نمبر) کو سوشل پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے پہلے
"ڈیجیٹل جاسوسوں" کی موجودگی کو ذہن میں رکھیں۔
سرچ انجن (خفیہ ایجنسی) کا مثبت استعمال:
ایک بلاگر یا یوٹیوبر
کے طور پر، ان بوٹس یا کرالرز سے ڈرنے کے بجائے انہیں اپنا مارکیٹنگ ایجنٹ بنانا
چاہیے۔ اگر آپ بلاگر ہیں یا یوٹیوبر ہیں اور آپ کا مواد معیاری ہےاور لوگوں کے لئے
فائدہ مند ہے تو یہ جاسوس خود اسے دنیا کے
کونے کونے تک پہنچا دیں گے۔
اختتامیہ:
مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا مثبت کردار بڑھ جائے گا۔ یہ ایک مشین ہے ایک
انسان کی سوچ اس سے کہیں آگے ہے۔ مشین صرف انفارمیشن دے سکتی ہے مگر سوچ اور ذہانت
نہیں۔ یہ مشین بھی انسان کی بنائی ہوئی ہے اس میں ڈیٹا بھی انسان نے خود محفوظ کیا
ہے تو جو انفارمیشن اس کے پاس ہے وہی بتائی گی کوئی انوکھی شے نہیں۔
یہ پوسٹ Exponect.com ٹیم کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)