کامیابی کے چار اصول جن کے بغیر کامیابی ممکن نہیں
رائٹر: Exponect.com ٹیم
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ "کامیابی کیا ہے؟" دنیا بھر میں اس موضوع پر لاکھوں کتابیں لکھی گئیں اور ہزاروں سیمینارز ہوئے، لیکن آج بھی اکثریت اس سوال پر خاموش ہو جاتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ میں خود بھی ایک طویل عرصے تک اسی کشمکش میں رہا۔ جب میں
یونیورسٹی کا طالب علم تھا تو مجھے رٹا مارکر امتحان میں اچھے مارکس لینے بجائے سمجھ کر پڑھنا پسند تھا لیکن کوئی واضح تصور نہیں تھا میں سوچتا تھا
کہ اگر ڈگری لے کرعملی دنیا میں کامیاب کیسے ہونا ہے۔
اسی خوف اور تجسس نے مجھے زندگی کے ان چار اصولوں تک پہنچایا جنہیں میں نے
اپنے تجربے کی بھٹی میں تپا کر سیکھا ہے۔
کامیابی کا لغوی معنی:
کامیابی کا مطلب ہے کسی شے حاصل
کرنا۔
کامیابی کیا ہے؟
اپنی منزل پر پہنچنا بھی ایک کامیابی
ہے۔
کسی کام کو مکمل کرنے کا نام کامیابی
ہے۔
اگر آپ زندگی کو
سنجیدگی سے گزارنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ان چار ستونوں پر اپنی عمارت کھڑی کرنی ہوگی۔
میں آپ کو کامیابی کے وہ چار اصول بتا رہا جن کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
کامیابی کا پہلا اصول:
جانا کہاں ہے؟
کامیابی کا پہلا
قدم سمت ہے اس کے بعد اسی ڈائریکشن میں محنت مستقل مزاجی سے کام کرنا ہے۔ سب سے
اہم درست سمت ہے کیونکہ صحیح سمت ہی منزل کا تک پہنچنے میں مدد کرتی ہے۔ تصور کریں
کہ آپ ایک نہایت تیز رفتار گاڑی میں سوار ہیں، لیکن آپ کو معلوم ہی نہیں کہ آپ کی
منزل کیا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کی رفتار آپ کو منزل کے قریب نہیں بلکہ گمراہی کے
گڑھے میں لے جائے گی۔
یویوسٹی کے سٹوڈنٹس کی حیثیت سے یہ سوچتا تھا کہ شاید ڈگری بے کارہے۔ لیکن
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ڈگری بے کار نہیں۔ یہ ایک ٹول یا ہتھیار ہے اس کو
استعمال کرکے اس سے فائدہ اٹھانا سیکھیں۔ میں نے تعلیم مکمل کرکے بلاگنگ شروع کری۔
اگر میرے پاس اعلی تعلیم نہ ہوتی تو میں کیسے بلاگنگ کرتا۔ میں کیسے تحریر لکھتا
اور پوسٹ شائع کرتا؟ مجھے بلاگنگ کا شوق نہیں تھا لکھنے کا شوق تھا تو بلاگنگ کا
راستہ اپنا لیا۔ یہاں ایک مقصد مل گیا۔
تو پہلے خود سے پوچھیں:
"میں زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتا ہوں؟"
آپ کا مقصد بالکل واضح اور صاف ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کہیں کہ
میں "استاد" بننا چاہتا ہوں، تو یہ ادھورا مقصد ہے۔ آپ کو یہ واضح کرنا
ہوگا کہ آپ کس مضمون کے پروفیسر بننا چاہتے ہیں؟ اردو، سائنس یا ٹیکنالوجی؟ جیسے ایک
فٹ بالر کا مقصد کلیئر ہوتا ہے کہ اسے گیند کو جال میں ڈالنا ہے، ویسے ہی جب تک آپ کا "نشانہ" واضح نہیں ہوگا، آپ
کا تیر کبھی ٹھیک جگہ نہیں لگ سکتا۔
2
کامیابی کا دوسرا اصول:
جان کتنی ہے؟
منزل طے کرنے کے بعد اگلا اہم مرحلہ اپنی صلاحیتوں کا
جائزہ لینا ہے۔ رٹے بازی کی روایتی دنیا سے باہر نکلیں اور خود سے سوال کریں:
"کیا میرے پاس وہ ہنر اور طاقت موجود ہے جو مجھے اس منزل تک پہنچا سکے؟"
اگر آپ ایک کامیاب فٹ بالر بننا چاہتے ہیں لیکن آپ کو
بھاگنا دوڑنا اچھا نہیں لگتا، تو آپ کبھی ماہر نہیں بن پائیں گے۔ کامیابی خیالی
پلاؤ سے نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی مشقت کرنے کی صلاحیت سے ملتی ہے۔ اگر آپ کے پاس
وہ 'جان' یا وہ مہارت نہیں ہے جس کی اس فیلڈ میں ضرورت ہے، تو اسے سیکھنا اور اس کی
مسلسل مشق کرنا ہی آپ کی اصل محنت ہونی چاہیے۔ یاد رکھیں، ہنر رٹے سے نہیں، بار
بار کی مشق سے پیدا ہوتا ہے۔
3
کامیابی کا تیسرا اصول:
جاؤں گا کیسے؟
تیسرا اصول تدبیر اور حکمتِ عملی کے بارے میں ہے۔ خواب دیکھنا
ایک بات ہے، لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک ٹھوس "روڈ میپ" کی ضرورت
ہوتی ہے۔ اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں: اگر آپ کو لاہور سے اسلام آباد جانا ہے، تو
آپ کو منصوبہ بندی کرنی ہوگی کہ سواری اپنی ہوگی یا بس؟ کتنے بجے نکلنا ہوگا؟
کامیابی کے لیے بھی ایک واضح تصور ضروری ہے۔ اگر آپ بہترین فٹ بالر
بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس میدان کے سکندروں نے کامیابی کیسے
حاصل کی؟ ان کی زندگی کو پڑھ کر آپ کو ایک پلاننگ ملے گی کہ کب جم جانا ہے، کیا
خوراک لینی ہے اور کن فضول کاموں سے بچنا ہے۔ خیالی دنیا سے نکل کر یومیہ اہداف مقرر کرنا ہی وہ راستہ ہے جہاں
آپ کو اپنی تمام تر حکمتِ عملی استعمال کرنی ہے۔
4
کامیابی کا چوتھا اصول:
جان لگا دوں گا !
جب پہلے تین سوالوں کے واضح جواب مل جائیں، تو آخری اور
فیصلہ کن مرحلہ شروع ہوتا ہے جسے ہم "جان لگا دینا" کہتے ہیں۔ اس کا
مطلب ہے اپنی تمام تر جسمانی اور ذہنی طاقت کو مقصد کے لیے وقف کر دینا۔ یہ وہ
مقام ہے جہاں آپ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ یہاں قربانی کا مطلب اپنے وقت
اور وسائل کا صحیح استعمال کرنا اور ہر روز کچھ نیا سیکھنا ہے۔
راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، آپ نے پیچھے مڑ کر نہیں
دیکھنا کیونکہ کامیابی ہمیشہ اپنی قیمت مانگتی ہے۔ کامیابی کے لئے جو قیمت ہے آپ کی
محنت، وقت کی پابندی اور آج کا کام آج ہی کرنے کی عادت۔ لہٰذا ہار ماننے کے بجائے
سفر جاری رکھیں اور مشکلات برداشت کریں۔ مشکل برداشت کریں گے تو بعد آپکو آسانی میسرآئے
گی۔ اس پورے سفر میں آپ کی صحت آپ کا اصل خزانہ ہے۔ صحت مند جسم کی مثال ایک انجن
کی طرح ہے؛ اگر انجن ہی جواب دے جائے تو منزل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔ ۔ اپنی
صحت کو پہلی ترجیح دیں اور مستقل مزاجی سے محنت جاری رکھیں۔
حاصلِ کلام:
یاد رکھیں، آپ کی پہچان آپ کے کام سے ہے۔ اور انسان کا
نام تبھی چمکتا ہے جب وہ اپنے کام سے عشق کرتا ہے یعنی اس کے کام کے پیچھے سچی لگن
اور بھرپور محنت ہوتی ہے۔ کامیابی کے ان چار اصولوں کو محض جان لینا کافی نہیں،
بلکہ ان پر عمل کرنے میں چھپا ہے۔ اگر آپ کامیابی کے ان چار اصولوں کو صرف پڑھ کر عمل نہیں کریں گے تو کامیابی
ممکن نہیںَ۔ اس کے برعکس اگر آپ سچے دل سے اپنی سمت متعین کریں، اپنی صلاحیتوں کو
پہچانیں، درست راستہ اپنائیں اور پھر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کا پختہ ارادہ کر لیں،
تو کامیابی کا پھل آپ کوایک دن ضرور ملے گا۔
یہ پوسٹ Exponect.com ٹیم کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔